صحافت یا جرنلزم حقائق سے راست طور پر آگاہی کا نام ہے۔صحافت کا انسانی زندگی سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔آج کے اس برق رفتار دور میںذرائع ابلاغ انسانی زندگی میں ایک لازمی حصہ کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ ہماری زندگی میں ایک ضرورت کی شکل میں شامل ہوچکا ہے۔انسانی زندگی کے تمام حواس اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔یہ صحافت کی ہی کرشمہ سازی ہے کہ پلک جھپکتے ہی کسی واقعہ یا حادثے کی خبرپوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔اور عمل اور رد عمل کا سلسلہ مسلسل چل پڑتا ہے۔اپنی اسی متاثر کن خاصیت کے سبب صحافت آج جمہوری نظام میں چوتھے ستون کا درجہ رکھتی ہے۔واقعات یا حقائق جاننے کا نام صحافت ہے۔سچائی اور انکشافات کا پتہ لگانا ہی صحافت ہے۔عوام کو سچائی اور تمام واقعات سے باخبر رکھنا صحافت ہے۔سچائی پر ہی صحافت کی تعمیر ہوتی ہے۔ وہ لفظ جسے ہم زبان اردو میں ’’صحافت کہتے ہیں در اصل عربی زبان کے لفظ ’’صحیفہ ‘‘ سے ماخوذ ہے۔جس کے لغوی معنی صفحہ،کتاب،رسالہ،ورق کے ہیں۔اپنے وقت مقررہ پر شائع ہونے والا مطبوعہ مواد بھی صحیفہ ہے۔لہذاجدید عربی معنی میں جریدہ اور اخبار بھی لفظ صحیفہ سے مستعار ہے۔اخبار و رسائل کو ترتیب دینے اور مزین کرنے میں جن لوگوں کی شمولیت ہوتی ہے اْنہیں صحافی کہتے ہیں اور اس پیشے کو صحافت۔انگریزی میں صحافت کو Journalism اور اس پیشہ سے وابستہ افراد کو Journalist کہا جاتا ہے ۔
-------------------------------------- جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔